Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

منی پورفسادات؛ بھارتی حکومت کا مزید 5000 فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ

بھارتی ریاست منی پورمیں جاری جھڑپوں میں مزید 16 ہلاکتیں ہوچکی ہیں، بھارت کی جانب سے کشیدہ صورتحال پرقابو پانے کے لیےمزید 5 ہزار فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ 

مودی سرکارکی متعصبانہ پالیسی کی بدولت بھارتی ریاست منی پور میں ہلاکت خیز نسلی فسادات کنٹرول سے باہر ہیں۔ اکثریتی میتی قبائل اوراقلیتی کوکی قبیلے کےدرمیان 18 ماہ سےجاری تنازع مزید گھمبیرشکل اختیارکرگیا۔

پرتشدد واقعات میتی برداری کو سرکاری طور پر قبائلی درجہ دینے کے عدالت کے ایک فیصلے کے بعد شروع ہوئے۔ کوکی قبائلی اس فیصلے کی مخالفت کررہے ہیں۔

اب تک ان پرتشدد واقعات میں 200 سے زائد افراد ہلاک جبکہ 60 ہزارسے زائد بے گھرہوچکے ہیں۔ گزشتہ ہفتے کوکی قبائل کے 10 افراد کی لاشیں ضلع جیری بام سے برآمد ہوئی تھیں۔ یہ تمام افراد پولیس اسٹیشن پرحملے میں مارے گئے تھے۔

تاہم کوکی قبائل کا کہنا ہے کہ ان 10 افراد کو پولیس نے تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کیا اورلاشیں جیری بام میں پھینک دیں۔ ریاست منی پورمیں پہلے ہی ہزاروں بھارتی فوجی موجود ہیں۔

کشیدہ حالات کے پیش نظر ریاست میں انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں اور کرفیو معمول بن چکا ہے۔ ریاست منی پورمیں مشتعل ہجوم نے مقامی سیاست دانوں کے گھروں پر بھی حملے کی کوشش کی۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق مقامی سیاسی رہنما مودی سرکارکی آشیرباد سے سیاسی فائدے اٹھانے کیلئے نسلی فسادات کو ہوا دے رہے ہیں۔ حکومت منی پورمیں لوگوں کی جانوں اور املاک کے تحفظ کی ذمہ داری سے مکمل طورپردستبردار ہو چکی ہے۔

کارکن انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ جدید ہتھیاروں، انٹیلی جنس اور ٹیکنالوجی کے باوجود بھارتی حکومت منی پورمیں حالات پر کیسے قابو نہیں پا رہی ہے؟ انتہا پسندمودی سرکارنے ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود کسی سے مذاکرات تک نہ کئے۔ بیساکھیوں پرکھڑی مودی سرکار پر یہ چال الٹی بھی پڑ سکتی ہے جس سے اس کی حکومت بھی جاسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں