تجارتی جنگ میں چین کا امریکا پر ایک اور معاشی وار امریکی جوابی اقدام کے بعد چین نے طیارہ ساز کمپنی بوئنگ سے طیارے خریدنے کے معاہدے کو منسوخ کردیا۔
عالمی سطح پر جاری تجارتی جنگ میں چین اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جب چین نے اپنے ائرلائنز کو امریکی کمپنی بوئنگ سے طیارے خریدنے سے روک دیا۔
اس فیصلے کے بعد چین کی تین بڑی ایئرلائنز کو امریکی کمپنی بوئنگ سے 179 طیاروں کی ڈلیوری منسوخ کر دی گئی ہے۔
چین کے اس اقدام کے جواب میں امریکا نے بھی چینی مصنوعات پر 245 فیصد تک ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ضمن میں ایک نیا ایگزیکٹو آرڈر بھی جاری کیا، جس میں چین سے تعلق رکھنے والی معدنی درآمدات کی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔ مزید برآں، امریکا نے چین کو H20 چپس فروخت کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے چین کے اس جوابی اقدام کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین کی جانب سے ان اقدامات کے بعد ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ چین پر مزید ٹیرف عائد کیے جائیں گے۔
چینی وزارت خارجہ نے فوری طور پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکمت عملی بےسود ہے اور چین نے امریکا سے بلیک میلنگ کا خاتمہ کرنے کا مطالبہ کیا۔
چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکا کی جانب سے چین کے خلاف یہ اقدامات غیر معقول ہیں اور ان کا کوئی ٹھوس جواز نہیں ہے۔ چین کا موقف واضح ہے کہ ہم اپنے مفادات کا تحفظ کریں گے اور امریکی حکمت عملی کو مسترد کرتے ہیں۔




















