11 ستمبر 2001 کو امریکا میں ہونے والے دہشت گرد حملوں نے دنیا کی سلامتی، خفیہ معلومات کے نظام اور دہشت گردی کے خلاف پالیسیوں کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا تاہم 25 سال بعد بھی ان حملوں سے حاصل ہونے والے اسباق پر سوالات برقرار ہیں۔
11 ستمبر 2001 کو القاعدہ نے چار مسافر طیارے اغوا کرکے نیویارک کے تجارتی مرکز اور امریکی دفاعی مرکز کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 2 ہزار 977 افراد ہلاک ہوئے۔
ان حملوں سے قبل امریکی خفیہ اداروں کو اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے نیٹ ورک کے بارے میں معلومات حاصل تھیں تاہم مختلف اداروں کے درمیان معلومات بروقت شیئر نہ ہونے کے باعث خطرے کو مکمل طور پر سمجھنے اور حملہ روکنے میں ناکامی ہوئی۔
بعد ازاں ہونے والی تحقیقات میں امریکی حکومت اور خفیہ اداروں کی معلومات کے تجزیے، باہمی رابطے اور فیصلہ سازی میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔
حملوں کے چند ہی روز بعد امریکا نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا اعلان کیا جس کے بعد افغانستان اور عراق سمیت مختلف ممالک میں طویل فوجی کارروائیاں کی گئیں۔
اس عرصے میں خفیہ معلومات کے تبادلے اور دہشت گردی کی روک تھام کے نظام میں کئی اصلاحات کی گئیں۔ امریکا نے مختلف خفیہ اداروں کے درمیان رابطہ بہتر بنانے کے لیے نئے ادارے قائم کیے جب کہ برطانیہ میں بھی خفیہ اداروں اور پولیس کے درمیان تعاون بڑھایا گیا۔
تاہم 2003 میں عراق پر حملے سے قبل بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے متعلق غلط معلومات نے خفیہ اداروں کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔ بعد کی تحقیقات میں ان معلومات کو ناقص اور غیر مصدقہ قرار دیا گیا۔
برطانیہ میں بھی 2005 کے لندن بم دھماکوں سمیت بعض دہشت گرد حملے خفیہ اداروں کی نظر سے اوجھل رہے۔ 2017 میں مانچسٹر حملہ بھی اسی نوعیت کی ایک بڑی ناکامی قرار دیا گیا۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ 25 برس میں دہشت گردی کے ساتھ ساتھ روس، چین اور ایران سے پیدا ہونے والے ریاستی خطرات بھی نمایاں ہوگئے ہیں۔ مغربی ممالک پر یہ تنقید بھی کی جاتی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف رہتے ہوئے چین کی بڑھتی فوجی اور معاشی طاقت کو بروقت نہیں سمجھ سکے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آج خفیہ معلومات جمع کرنا ہی کافی نہیں بلکہ مختلف معلومات کو جوڑ کر ان کے وسیع تر نتائج سمجھنا بھی ضروری ہے۔
11 ستمبر کے حملوں سے ایک بنیادی سبق یہ سامنے آیا کہ معلومات موجود ہونے کے باوجود اگر ادارے انہیں بروقت جوڑ کر درست حکمت عملی نہ بنائیں تو بڑے سانحات کو روکنا ممکن نہیں ہوتا۔




















