نئی جینیاتی تحقیق میں سائنسدانوں نے ان اہم خلیاتی غلطیوں کا سراغ لگالیا ہے جو حمل کے دوران بچے کے دل کی نشوونما متاثر کرکے پیدائشی دل کے نقائص کا سبب بن سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق حمل کے ابتدائی تین ماہ میں خلیوں کی نشوونما اور باہمی رابطے میں خرابی دل کے ٹشوز کی درست تشکیل میں رکاوٹ بن سکتی ہے جب کہ بعض جینیاتی تبدیلیوں کے اثرات دل کے علاوہ دماغ، گردوں اور ہڈیوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
نئی تحقیق میں ماہرین نے اس پیچیدہ مرحلے کا جائزہ لیا جس کے دوران بچے کے جسم میں دل کی تشکیل ہوتی ہے۔ سائنسدانوں نے خلیوں میں موجود انتہائی باریک ساختوں کے درمیان رابطے کے ایک نئے نظام کی نشاندہی کی ہے جو دل کی درست نشوونما میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق بعض جینیاتی تبدیلیاں اس نظام میں خلل ڈال دیتی ہیں جس کے نتیجے میں دل کے ٹشوز اپنی درست جگہ پر نہیں پہنچ پاتے یا بعض اوقات مکمل طور پر تشکیل نہیں پاتے۔
ماہرین نے حمل کے ابتدائی تین ماہ کے دوران خلیوں میں ہونے والی مخصوص تبدیلیوں کا جائزہ لے کر ان مقامات کی نشاندہی کی جہاں نشوونما کا عمل معمول کے مطابق آگے نہیں بڑھتا۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پیدائشی دل کی بیماری دنیا بھر میں تقریباً ہر 100 نومولود بچوں میں سے دو کو متاثر کرتی ہے اور یہ پیدائشی نقائص کی عام اقسام میں شامل ہے۔
دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 23 سے 25 لاکھ نومولود بچے پیدائشی دل کی بیماری سے متاثر ہوتے ہیں جب کہ 2023 کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ افراد اس بیماری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
سائنسدانوں کے مطابق بعض بچوں میں پیدائشی دل کا نقص کسی وسیع جینیاتی بیماری کا حصہ ہوتا ہے جس میں جسم کے دوسرے اعضا بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ ایسے معاملات کو مختلف اعضا کو متاثر کرنے والی پیدائشی دل کی بیماری قرار دیا جاتا ہے۔
دوسری جانب ایسے بچے جن میں دل کا نقص ہو لیکن جسم کے دیگر حصوں میں متعلقہ پیچیدگیاں نہ ہوں، ان کی بیماری کو الگ نوعیت کی پیدائشی دل کی بیماری سمجھا جاتا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق اس تحقیق سے مستقبل میں حمل کے دوران بیماری کی بروقت شناخت، مخصوص جینیاتی علاج اور پیچیدہ دل کے نقائص کے شکار بچوں کے لیے زیادہ مؤثر طبی منصوبہ بندی میں مدد مل سکتی ہے۔




















