Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

عمر کے حساب سے دوڑنے کی رفتار کتنی ہونی چاہیے؟ ماہرین کا حیران کن انکشاف

ڈورنے کی رفتار کے یہ پیمانے ہر شخص کے لیے ضروری نہیں ہے کہ مطابقت رکھتے ہوں تاہم یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو باقاعدگی سے ورزش اور رننگ کرتے ہیں

یہ بات تو سب ہی جانتے ہیں کہ عمر بڑھنے کے ساتھ انسان کے چلنے اور ڈورنے کی رفتار کم ہونے لگتی ہے یہی وجہ ہے کہ ماہرین نے ہر عمر کے حساب سے ڈورنے کی رفتار بتا دی ہے تاکہ آپ جان سکیں کہ عمر کے کس حصے میں دوڑنے کی رفتار کتنی ہونی چاہیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بھی دوڑنے کا آغاز کریں رفتار ہلکی رکھیں اور وقت کے ساتھ اپنی رفتار بڑھائیں تاہم ایک میل کی فاصلہ طے کرنے میں کتنا اوسط وقت درکار ہے بتایا جارہا ہے،

ماہرین کے مطابق درمیانے درجے کے رنرز کے لیے ایک میل مکمل کرنے کا اوسط وقت کچھ یوں ہے

20 سے 30 سال: مرد 6 منٹ 37 سیکنڈ، خواتین 7 منٹ 49 سیکنڈ

30 سے 40 سال: مرد 6 منٹ 47 سیکنڈ، خواتین 7 منٹ 49 سیکنڈ

40 سے 50 سال: مرد 7 منٹ 14 سیکنڈ، خواتین 8 منٹ 17 سیکنڈ

50 سے 60 سال: مرد 7 منٹ 50 سیکنڈ، خواتین 9 منٹ 11 سیکنڈ

یہاں یہ بات جاننے بہت ضروری ہے کہ ڈورنے کی رفتار کے یہ پیمانے ہر شخص کے لیے ضروری نہیں ہے کہ مطابقت رکھتے ہوں تاہم یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو باقاعدگی سے ورزش اور رننگ کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چلنے کی رفتار سے جانئے کہ آپ کتنے صحت مند ہیں؟

اگر آپ ہفتے میں صرف ایک دو بار جاگنگ کرتے ہیں تو ان اوقات تک پہنچنا مشکل ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بہتر کارکردگی کے لیے ہفتے میں تقریباً 4 سے 5 دن ورزش کرنا ضروری ہے۔

اگر آپ ابھی دوڑنا شروع کر رہے ہیں شروع میں مسلسل دوڑنے کی ضرورت نہیں صرف 2 سے 3 منٹ دوڑیں، پھر 1 سے 2 منٹ پیدل چل کر آرام کریں یہ عمل 15 سے 30 منٹ تک جاری رکھیں اور وقت کے ساتھ دوڑنے کا دورانیہ بڑھاتے جائیں۔

اپنی رفتار بہتر بنانے کے لیے پہاڑی یا چڑھائی والی جگہ پر دوڑنے، سائیکل چلانے، تیراکی اور وزن اٹھانے جیسی ورزشیں بھی کی جا سکتی ہیں۔

اگر آپ ایک میل تیزی سے نہیں دوڑ سکتے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ فٹ نہیں ہیں بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہو سکتا ہے کہ آپ کو اپنی جسمانی اور دل کی صحت بہتر بنانے کے لیے مزید ورزش کی ضرورت ہے۔

اپنی عمر، صحت اور جسمانی صلاحیت کے مطابق رفتار رکھیں۔ دوسروں سے مقابلہ کرنے کے بجائے اپنی کارکردگی میں آہستہ آہستہ بہتری لائیں۔

اگر دوڑتے ہوئے درد، زیادہ اکڑاؤ یا ایسی تکلیف ہو جو آپ کی دوڑ کو متاثر کرے تو رک جائیں۔ زبردستی ورزش کرنا چوٹ کا سبب بن سکتا ہے۔

دوڑنے کے فوائد 

دوڑنا جسم اور دماغ دونوں کے لیے فائدہ مند ہے۔باقاعدگی سے دوڑنے سے دل اور پھیپھڑے مضبوط ہوتے ہیں، بلڈ پریشر توازن میں رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

دوڑنے سے جسم کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں۔توازن اور برداشت بہتر ہوتی ہے اسی طرح ہڈیوں کی مضبوطی میں بھی مدد ملتی ہے ذہنی دباؤ اور بے چینی کم، موڈ اور نیند بہتر ہو سکتی ہے عمر کے ساتھ ذہنی صلاحیتوں میں کمی کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

Exit mobile version