Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بھارت اپنی مسلم اقلیت کو دیوار سے لگا رہا ہے، فرانسیسی پروفیسر کرسٹوف جیفر لاٹ کا انکشاف

فرانسیسی پروفیسر کرسٹوف جیفر لاٹ نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت اپنی مسلم اقلیت کو دیوار سے لگا رہا ہے، بھارت اسرائیلی ماڈل کی پیروی کرتے ہوئے مسلمانوں کو حقوق کے بغیر ثانوی شہری بنانا چاہتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ادارہ برائے تزویراتی مطالعہ جات میں ‘مودی کے بھارت میں اقلیتوں کی مشکلات’ کے عنوان سے گول میز مباحثے کا انعقاد کیا گیا، مباحثے سے خطاب میں ڈی جی آئی ایس ایس آئی سہیل محمود نے کہا کہ حالیہ برسوں میں بھارت میں اقلیتوں کے خلاف انتہا پسندی اور عدم برداشت میں اضافہ ہوا ہے، بھارت میں ہندوتواء کے بڑھتے اثرات اقلیتوں پر واضح ہیں۔

مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے معروف عالمی محقق اور سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ، پیرس کے پروفیسر کرسٹوف جیفرلاٹ نے انکشاف کیا ہے کہ دھائیوں کے اعداد و شمار،  انٹر ویوز، معلومات سے ظاہر ہو رہا ہے کہ بھارت اپنی مسلم اقلیت کو دیوار سے لگا رہا ہے، بھارتی معاشرے میں مسلم بھارتیوں کا کردار دن بدن کم ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں جدت اور نیشنل ازم کے نام پر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کا معاشرتی، اقتصادی، تعلیمی اور ملازمت میں حصہ سکڑ رہا ہے جبکہ بھارتی عدلیہ، بیورو کریسی، پولیس و دیگر شعبوں میں مسلمانوں کی موجودگی کم ہوئی ہے۔بھارت اسرائیلی ماڈل کی پیروی کرتے ہوئے مسلمانوں کو حقوق کے بغیر ثانوی شہری بنانا چاہتا ہے۔

کرسٹوف جیفرلاٹ نے انکشاف کیا کہ بھارت میں جدت اور نیشنل ازم کے نام پر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کا معاشرتی،  اقتصادی،  تعلیمی، ملازمت میں حصہ سکڑ رہا ہے۔بھارتی عدلیہ، بیورو کریسی، پولیس و دیگر شعبوں میں مسلمانوں کی موجودگی کم ہوئی ہے جبکہ اندرا گاندھی کے دور میں 9 فیصد مسلم نمائندگی پر مشتعمل لوک سبھا 2014 میں صرف 5 فیصد رہ گئی۔

کرسٹوف جیفرلاٹ نے کہا کہ جنوبی بھارت میں اسمبلیوں  میں مسلم نمائندگی موجود ہے تاہم شمالی و مغربی بھارت کی اسمبلیوں میں مسلم نمائندگی میں کمی ہوئی ہے، بھارت میں اونچی ذات والے ہندووں کا دولت میں 50 جبکہ مسلمانوں کا 9 فیصد حصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلم اب دلتوں سے کم آمدن رکھتے ہیں جبکہ اپر کاسٹ ہندو ان سے دوگنا کماتے ہیں گریجویٹ اور اعلیٰ تعلیم تک مسلم رسائی 4.2 فیصد ہے، تعلیمی وظائف کی قلیل تعداد تک مسلم طلبہ کی رسائی ہے۔

پروفیسر کرسٹوف جیفر لاٹ نے کہا کہ بھارت میں اردو دم توڑ رہی ہے، اب اردو میں چھپنے والے اخبار ہندی اور دیوناگری رسم الخط میں چھپ رہے ہیں جبکہ اتر پردیش نے نصف سے زائد مسلمان اب اردو سے نا آشنا ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں پروفیسر جیفرلاٹ نے واضح کیا کہ بھارتی مسلمانوں کا اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے آندھراپردیش اور دیگر جنوبی ریاستوں مین منتقل ہونا بہتر ہوگا،بھارت اسرائیلی ماڈل کی پیروی کرتے ہوئے مسلمانوں کو حقوق کے بغیر ثانوی شہری بنانا چاہتا ہے۔

کرسٹوف جیفرلاٹ نے مزید کہا کہ بھارت میں مسیحی بھی وجالانتیوں اور بجرنگ دل کا ہدف ہیں تاہم مسیحیوں کی تعداد کم ہونے کے باعث ان کو مسلمانوں کی طرح بڑا خطرہ نہیں، سمجھا جاتا امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا سمیت دیگر ممالک میں آر ایس ایس کی طرز پر طلباء تنظیمین دھائیوں پہلے بنائی گئیں جس کے اثرات اب ظاہر ہیں دیکھنا ہوگا کہ جنوب کے مسلمان شمالی و مغربی بھارتی مسلمانوں کو بچا سکیں گے یا نہیں۔

متعلقہ خبریں