بنگلہ دیش میں گزشتہ ہفتے طلبا کی جانب سے کوٹا سسٹم کے خلاف مظاہرے کی قیادت کرنے والے رہنما کو دو ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا گیا ہے۔
بنگلہ دیش میں طالب علموں کے احتجاج کے سرکردہ رہنما ناہید اسلام اور دو دیگر افراد کو پولیس اہلکار ڈھاکہ کے ایک ہسپتال سے اٹھا کر لے گئے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تشدد کے دنوں میں گرفتاریوں کی تعداد 2500 سے تجاوز کر گئی ہے۔
اسپتال کی سپروائزر انوارہ بیگم لکی کا کہنا تھا کہ خفیہ ادارے کے افراد نے انہیں ہم سے چھین لیا، یہ لوگ جاسوسی برانچ سے تھے اور طلبہ کا یہاں علاج چل رہا تھا۔
خبر رساں ادارے کے مطابق کم از کم 174 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں متعدد پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
مظاہروں کی قیادت کرنے والے طلبہ گروپ نے پیر کے روز اپنے احتجاج کو 48 گھنٹوں کے لیے معطل کر دیا تھا اور اس کے رہنما نے کہا تھا کہ وہ ‘اتنے خون کی قیمت پر’ اصلاحات نہیں چاہتے تھے۔
ناہید اسلام نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ انہیں اپنی جان کا خطرہ ہے اور انہوں نے منگل کی شام کو اس تعطل میں مزید 48 گھنٹے کی توسیع کر دی ہے۔



















