اسلام آباد: اورنگزیب خان مشیر خزانہ بننے پر کابینہ کمیٹیوں کی سربراہی سے محروم ہوجائیں گے۔
ذرائع کے مطابق اورنگزیب خزانہ کا مشیر یا معاون خصوصی بننے پر فیصلہ سازی میں کردار محدود ہوجائے گا، عدالتی فیصلے کے تحت غیر منتخب مشیر یا معاونین کابینہ کمیٹیوں کی سربراہی نہیں کر سکتے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ غیرمنتخب مشیر یا معاونین کابینہ کمیٹیوں کے رکن بھی نہیں بن سکتے جبکہ وزیراعظم کے پاس غیرمنتخب شخصیت کو 6 ماہ تک وزیر بنوانے کا آپشن موجود ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اورنگزیب خان وفاقی وزیر بننے پر کابینہ کمیٹیوں کی سربراہی کرسکیں گے، تاہم کابینہ کمیٹیوں کی سربراہی کون کرے گا؟ یہ فیصلہ وزیر اعظم شہباز شریف کریں گے، وزیراعظم کابینہ کمیٹیوں کی سربراہی خود یا کسی بھی وزیر کو چیئرمین بنا سکتے ہیں۔
علاوہ ازیں سابقہ اتحادی دور میں کوئی مشیر یا معاون خصوصی کابینہ کمیٹیوں کا سربراہ نہیں تھا، اتحادی دور میں کوئی مشیر یا معاون خصوصی کابینہ کمیٹیوں کارکن بھی نہیں تھا، مشیر اور معاونین کو خصوصی دعوت پر اجلاسوں میں مدعو کیا جاتا تھا۔
ذرائع کے مطابق سابقہ دور میں شہباز شریف بطور وزیراعظم کابینہ کمیٹی توانائی کے چیئرمین تھے، وزیراعظم چینی سرمایہ کاری منصوبوں سے متعلق کابینہ کمیٹی کے سربراہ بھی تھے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ اسحاق ڈار بطور وزیر خزانہ ای سی سی اور کابینہ کمیٹی نجکاری کے چیئرمین تھے جبکہ اسحاق ڈار بطور وزیر خزانہ کابینہ کمیٹی سرکاری ملکیتی اداروں کے بھی چیئرمین تھے، تاہم اسحاق ڈار وزیر خزانہ بین الحکومتی کمرشل ٹرانزیکشنز کمیٹی کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔
