Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پیٹرول کی قیمت 1000 روپے تک پہنچنے کا خطرہ؟ وفاقی وزیر نے بڑا انتباہ دے دیا

اسکیم میں تیسری بڑی تبدیلی کے تحت ایس ایم ایس چارجز بھی ختم کردیئے گئے ہیں

وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے خبردار کیا ہے کہ اگر ملک میں پیٹرول کی قلت پیدا ہوئی تو اس کی قیمت 1000 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ فی الحال ملک میں پٹرول کی کوئی قلت نہیں۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ یورپ اور امریکا میں بھی پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تقریباً 80 فیصد اضافہ ہوا، تاہم پاکستان میں صارفین پر تقریباً 50 فیصد اضافہ منتقل کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور حوثی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے کم آمدنی والے اور متاثرہ طبقات کو ریلیف فراہم کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے مقامی سطح پر تیل کی پیداوار بڑھانے کے لیے نئے آئل ویلز پر کام شروع کردیا ہے اور اکتوبر کے دوران ملکی خام تیل کے ذخائر دریافت ہونے کی توقع ہے۔ ان کے مطابق مقامی پیداوار میں اضافہ مہنگے درآمدی تیل پر انحصار کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

دوسری جانب حکومت نے بڑھتی ہوئی پٹرول قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے شروع کیے گئے فیول ریلیف پروگرام میں بھی تبدیلیاں کی ہیں۔ اسکیم کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ، چنگ چی اور 800 سی سی تک گاڑیوں کے صارفین کو پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف دیا جارہا ہے۔

وزیر مملکت برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ نے اسکیم میں تین اہم تبدیلیوں کا اعلان کیا۔ اب یکم جنوری 2006 کے بعد رجسٹرڈ موٹر سائیکلیں بھی اسکیم کے لیے اہل ہوں گی، جبکہ پہلے 2011 کے بعد رجسٹرڈ موٹر سائیکلوں کی شرط تھی۔

اس کے علاوہ دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے فی ٹوکن 5 لیٹر کی حد ختم کردی گئی ہے۔ اہل صارفین اپنی ضرورت کے مطابق پٹرول خرید سکتے ہیں، جبکہ ہر اہل صارف کو ماہانہ 4 ٹوکن ملیں گے اور ہر ٹوکن پر 500 روپے کا ریلیف دیا جائے گا۔

شزا فاطمہ کے مطابق اگر دو لیٹر پٹرول کی قیمت 780 روپے ہو تو 500 روپے کے ریلیف ٹوکن کے استعمال کے بعد مستحق صارف کو صرف 280 روپے ادا کرنا ہوں گے۔

اسکیم میں تیسری بڑی تبدیلی کے تحت ایس ایم ایس چارجز بھی ختم کردیئے گئے ہیں، یعنی تمام اہل صارفین کے لیے رجسٹریشن اور اسکیم سے متعلق ایس ایم ایس سروس مفت کردی گئی ہے۔

شزا فاطمہ کے مطابق 19 ستمبر کو سہ پہر 3 بجے تک اسکیم کے تحت 17 لاکھ 50 ہزار سے زائد رجسٹریشنز مکمل ہوچکی تھیں، تقریباً 15 لاکھ ٹوکن جاری کیے جاچکے تھے جبکہ 6 لاکھ 80 ہزار سے زائد ٹوکن پٹرول پمپس پر استعمال بھی ہوچکے تھے۔

حکومت نے ان علاقوں کے لیے بھی ایس ایم ایس کے ذریعے ٹوکن ریڈیم کرنے کی منظوری دی ہے جہاں پٹرول پمپس پر انٹرنیٹ دستیاب نہیں۔ اسکیم میں رجسٹریشن کا عمل ملک بھر میں ایس ایم ایس کے ذریعے جاری ہے۔

یوں ایک طرف حکومت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور سپلائی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب مقامی تیل کی تلاش اور عوام کے لیے فیول ریلیف اسکیم کے ذریعے بڑھتے ہوئے مالی بوجھ کو کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تاہم 1000 روپے فی لیٹر کی قیمت کا خدشہ وزیر پٹرولیم نے صرف پٹرول کی قلت پیدا ہونے کی صورت میں ظاہر کیا ہے؛ اسے موجودہ قیمت کی پیش گوئی کے طور پر نہیں بیان کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version