جماعت اسلامی پاکستان نے وزیراعظم کی درخواست پر اپنا لانگ مارچ عارضی طور پر ملتان میں روکنے کا اعلان کردیا تاہم امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا ہے کہ احتجاجی تحریک ختم نہیں کی گئی اور حکومت سے تحریری یقین دہانی لی جائے گی۔
ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے بتایا کہ وزیراعظم نے گزشتہ روز فون کرکے لانگ مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔ وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان واپس پہنچنے کے بعد جماعت اسلامی کے وفد سے ملاقات کرکے عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات پر بات کریں گے۔
امیر جماعت اسلامی کے مطابق انہوں نے وزیراعظم کی درخواست پر مشاورت کے لیے وقت مانگا تھا، جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ لانگ مارچ ختم نہیں کیا جائے گا بلکہ وزیراعظم کو بات چیت کا ایک موقع دیا جائے گا۔ کارکن بدستور میدان میں موجود رہیں گے اور لانگ مارچ کا پڑاؤ ملتان میں برقرار رہے گا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کا مقصد انتشار یا فساد نہیں بلکہ عوام کو ریلیف دلانا ہے۔ وزیراعظم کی واپسی پر مذاکرات شروع کیے جائیں گے اور حکومت سے تحریری یقین دہانی حاصل کرنے کی کوشش ہوگی۔
انہوں نے حکومت کو متنبہ کیا کہ یہ مذاکرات کا آخری موقع ہوگا اور پٹرولیم لیوی میں کمی سمیت عوام کو درپیش مسائل پر عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی نے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کردیا ہے، جبکہ جماعت اسلامی کی شٹر ڈاؤن ہڑتال سے حکومت پر دباؤ بڑھا۔
حافظ نعیم الرحمان کے مطابق جماعت اسلامی نے حکومت کو پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے لیے مختلف تجاویز بھی دی تھیں، تاہم حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے باعث پٹرولیم لیوی میں کمی ممکن نہیں۔
