حکومت نے آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کرتے ہوئے گیس اور بجلی میں موجودہ سلیب اور کراس سبسڈی نظام ختم کرکے صرف مستحق صارفین کو ہدف بنانے کی تیاری شروع ہوگئی۔
آئی ایم ایف کے مطالبے پر توانائی کے شعبے میں گردشی قرض کا دباؤ کم کرنے کے لیے کراس سبسڈی اور موجودہ سلیب نظام ختم کرنے پر کام تیز کردیا گیا۔
پاور ڈویژن نے ورلڈ بینک کے تعاون سے مستحق صارفین کی سماجی و اقتصادی رجسٹری پر کام شروع کر دیا۔ صارفین کی رجسٹریشن نومبر تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ ڈیٹا ویریفکیشن کے بعد رجسٹری کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا سے منسلک کیا جائے گا۔
ڈسکوز نے ٹرانزیکشن مرحلے کی تیاری کے لیے بنیادی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی درخواستیں دائر کر دیں ۔ بجلی سبسڈی صرف مستحق اور کم آمدنی والے صارفین تک محدود کرنے کی تیاری ہے۔ قومی سماجی و اقتصادی رجسٹری کے ذریعے مستحق صارفین کی نشاندہی ہوگی۔آئی ایم ایف کو بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری اوراصلاحات کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔
گیس اور بجلی صارفین کے لیے کراس سبسڈی ختم کرکے ریلیف مستحق خاندانوں تک محدود کیا جائے گا۔ جنوری 2027 تک ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی اور کراس سبسڈی نظام ختم کرنا ہوگا۔ گیس صارفین کو یکم جولائی 2027 سے سماجی و اقتصادی رجسٹری سے منسلک کیا جائے گا۔ صارف کی اہلیت نئی رجسٹری کے ذریعے طے کی جائے گی۔
