Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ہماری پالیسی اسلام آباد سے آئے گی، جلال آباد یا قندھار سے نہیں، گورنر کے پی کا دوٹوک اعلان

پائیدار امن کے لیے پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط بنانا ہوگا، فیصل کریم کنڈی

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ ہے، ہماری پالیسی اسلام آباد سے آئے گی، جلال آباد یا قندھار سے نہیں، ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے کوئی بات نہیں ہوگی بلکہ ان کے خلاف جنگ ہوگی۔

پشاور میں حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ افغان حکام کی جانب سے پشاور پر قبضے جیسے بیانات اور ماضی میں ڈرونز کے معاملے پر خاموشی افسوسناک تھی۔ افغانستان، بھارت اور اسرائیل کی سہولت کاری کر رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبے سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، امن و امان کا قیام ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس کا کردار انتہائی اہم ہے، پولیس اہلکاروں کی استعداد کار بڑھانے کے ساتھ انہیں جدید اسلحہ، آلات اور ضروری وسائل فراہم کرنا ہوں گے۔ پولیس اہلکاروں کی جانوں کا تحفظ اور فلاح و بہبود بھی یقینی بنانا ہوگی۔

فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ پائیدار امن کے لیے پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط بنانا ہوگا، قیام امن کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جائیں گے اور انہیں سیاسی اونرشپ بھی دی جائے گی۔ ریاست کے خلاف جنگ کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

اس موقع پر سیکریٹری داخلہ امجد علی خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانوں کی قربانیاں دے رہی ہیں، اب تک ایک ہزار سے زائد فوجی جوان صوبے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہوچکے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے ملک دشمن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے نئی حکمت عملی تیار کی گئی ہے اور سوشل میڈیا کی مانیٹرنگ مزید مؤثر بنائی جا رہی ہے تاکہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو بے نقاب کیا جاسکے۔ عوام کے درمیان جاکر ان کے مسائل براہ راست سنے جائیں گے اور ان کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

سیکریٹری داخلہ کے مطابق موجودہ حکومت رواں سال پولیس کو 70 ارب روپے فراہم کرے گی، جبکہ محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے لیے 10 ارب 30 کروڑ روپے مختص کیے جائیں گے۔ پولیس میں افرادی قوت کی 15 فیصد کمی کو کم کرکے 5 فیصد تک لانے کا ہدف ہے، جبکہ پولیس کے لیے شہدا پیکیج بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس اور مضبوط بنایا جائے گا۔ پولیس کو 17 ہزار خالی آسامیوں کا سامنا ہے، جنہیں جلد پُر کیا جائے گا۔ سابقہ حکومتوں کے دور میں ضم اضلاع کے لیے پولیس کا بجٹ صرف 3.2 فیصد تھا۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے الزام عائد کیا کہ سابقہ پی ٹی آئی حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ نہیں تھی اور صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ اور افغان مہاجرین کی واپسی کی بھی حمایت نہیں کر رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں پائیدار امن کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version