Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اب آواز کی لہریں آگ بجھائیں گی

یہ نئی ٹیکنالجی سانک فائر ٹیک نامی کمپنی نے تیار کی جس میں پانی یا کیمیکلز کے بجائے اِنفراساؤنڈ استعمال کی جاتی ہیں

آگ بجھانے کے لیے عام طور پر پانی اور کیمیکل کا استعمال کیا جاتا ہے تاہم اب آواز کی لہروں سے آگ بجھانے والی نئی ٹیکنالوجی تیار کرلی گئی ہے۔

یہ نئی ٹیکنالجی سانک فائر ٹیک نامی کمپنی نے تیار کی جس میں پانی یا کیمیکلز کے بجائے اِنفراساؤنڈ (کم فریکوئنسی آواز کی لہریں) استعمال کی جاتی ہیں۔

اس کمپنی کی بنیاد جیف بروڈر جو ایک ایرو اسپیس انجینئر ہیں اور ناسا میں تھرمل انرجی کنورژن پر تحقیق کر چکے ہیں نے رکھی۔

جیف کا مقصد آگ بجھانے کا ایک نیا متبادل فراہم کرنا تھا کیونکہ پانی ہمیشہ دستیاب نہیں ہوتا اور اس کے استعمال سے نقصان بھی ہو سکتا ہے جبکہ کیمیکلز انسانی صحت اور ماحول کے لیے مضر ثابت ہو سکتے ہیں اس کے برعکس، آواز کے ذریعے آگ بجھانا ایک دلچسپ اور محفوظ حل ہو سکتا ہے۔

یہ منفرد ٹیکنالوجی کم فریکوئنسی آواز کی لہروں کے ذریعے آگ کے کیمیائی عمل کو توڑ دیتی ہے آگ کے لیے حرارت، ایندھن اور آکسیجن ضروری ہوتے ہیں، اور اگر ان میں سے ایک عنصر بھی ختم ہو جائے تو آگ بجھ سکتی ہے۔

 یہ ٹیکنالوجی اِنفراساؤنڈ لہروں کے ذریعے آکسیجن کے مالیکیولز کو ایندھن سے دور دھکیل دیتی ہے، جس سے آگ کو برقرار رہنے کے لیے ضروری آکسیجن نہیں ملتی۔

جیف بروڈر کے مطابق یہ بنیادی طور پر آکسیجن کو اتنی تیزی سے حرکت میں لاتا ہے کہ ایندھن اسے استعمال نہیں کر پاتا یوں کیمیائی ردِعمل رک جاتا ہے۔

اس ٹیکنالوجی میں 20 ہرٹز یا اس سے کم فریکوئنسی کی آواز پیدا کی جاتی ہے جو انسانی کان نہیں سن سکتے مگر آگ پر مؤثرکارکردگی دکھاتی ہے کیونکہ یہ دور تک سفر کرتی ہے۔

تاہم یہ ٹیکنالوجی صرف چھوٹی آگ پر مؤثر ہے اس لیے فی الحال اسے جنگلاتی آگ یا بڑے پیمانے کی آگ بجھانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version