زمین سے سب سے زیادہ فاصلے پر موجود خلائی جہاز میں ایک اور سائنسی آلہ بند کردیا گیا ہے تاکہ اس کے مشن کو مزید عرصے تک جاری رکھا جاسکے۔
ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ توانائی کی شدید کمی کے باعث کیا گیا کیونکہ یہ خلائی جہاز تقریباً پچاس برس سے مسلسل کام کررہا ہے۔
امریکی خلائی ادارے کے انجینئرز نے 17 اپریل کو اس آلے کو بند کرنے کا حکم بھیجا جو سورج سے نکلنے والی ہواؤں اور خلا کے درمیانی حصے کا مطالعہ کرتا تھا۔
یہ خلائی جہاز 1977 میں روانہ کیا گیا تھا اور اب تک اربوں کلومیٹر دور پہنچ چکا ہے، جہاں سے سگنل زمین تک پہنچنے میں تقریباً ایک دن لگ جاتا ہے۔
اس جہاز میں نصب توانائی پیدا کرنے والے نظام وقت کے ساتھ کمزور ہوچکے ہیں اور ہر سال ان کی طاقت میں کمی آرہی ہے جس کے باعث آلات کو مرحلہ وار بند کرنا پڑ رہا ہے۔
ماہرین کو اس بات کا خاص خیال رکھنا ہوتا ہے کہ توانائی بچانے کے ساتھ ساتھ جہاز کے اہم حصے منجمد نہ ہوں اس لیے ہر فیصلہ نہایت احتیاط سے کیا جاتا ہے۔
اس سے قبل بھی کئی اہم آلات بند کیے جاچکے ہیں تاہم حال ہی میں اچانک توانائی میں کمی نے انجینئرز کو مزید اقدامات پر مجبور کردیا۔
ماہرین کے مطابق اگر توانائی اچانک بہت کم ہوجائے تو جہاز خودکار طور پر کچھ نظام بند کردیتا ہے جس سے بحالی کا عمل طویل اور مشکل ہوجاتا ہے۔
یہ آلہ خلا کے اس حصے سے اہم معلومات فراہم کررہا تھا جہاں تک کوئی دوسرا انسانی ساختہ جہاز نہیں پہنچ سکا، اس لیے اسے بند کرنا آسان فیصلہ نہیں تھا۔
اب بھی اس خلائی جہاز میں دو اہم سائنسی آلات کام کررہے ہیں جو خلا کی لہروں اور مقناطیسی میدان کا ڈیٹا زمین پر بھیج رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ ایک نیا منصوبہ تیار کررہے ہیں جس کے تحت کم توانائی استعمال کرنے والے نظام فعال کیے جائیں گے تاکہ مشن کو مزید طویل کیا جاسکے۔
اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوگیا تو ممکن ہے کہ بند کیا گیا آلہ دوبارہ فعال کردیا جائے اور یہ تاریخی مشن مزید عرصے تک جاری رہے۔
