چین کے وسطی صوبے ہنان کے شہر پنگ ڈنگ شان میں چین کے پہلا دس لاکھ مکعب میٹر گنجائش کے حامل نمک کے زیر زمین غار میں ہائیڈروجن ذخیرہ کرنے کا آزمائشی منصوبہ باضابطہ طور پر فعال کر دیا گیا ہے یہ ملک مین ہائیڈروجن توانائی کی صنعت کاری کے ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔
چینی اکیڈمی آف انجینئرنگ کے رکن یانگ چھون ہا نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نمک کے غار میں ہائیڈروجن ذخیرہ کرنا ایک اہم ٹیکنالوجی ہے جو بڑے پیمانے پر پر ہائیڈروجن ذخیرہ کرنے اور ترسیل کی رکاوٹ کو دور کرنے اور نئے توانائی نظام کی تعمیر میں مددگار ثابت ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: ہائیڈروجن سے چلنے والا کار کاپٹر جلد حقیقت کا روپ دھار لے گا
یہ منصوبہ چائنا پنگ مے شینما کی ماتحت گیس ذخیرہ کرنے اور نمک کی کیمیائی کمپنی کے اعلیٰ معیار کے نمکین پتھروں کے وسائل کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے اس کی کلیدی تکنیکی پیش رفت کی قیادت چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف راک اینڈ سائل مکینکس نے کی جبکہ چائنا نیشنل پیٹرلیم کارپوریشن (سی این پی سی) اور چائنا پیٹر کیمیکل کارپوریشن (سائنوپیک) نے ڈیزائن اور تعمیر میں حصہ لیا۔
