Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ایران نے آئی اے ای اے کے سربراہ پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

بہروز کمال وندی نے کہا کہ آئی اے ای اے کو اپنے بنیادی کردار کی طرف واپس آنا چاہیے

ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے ترجمان بہروز کمال وندی نے کہا ہے کہ تہران کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی پر کوئی اعتماد نہیں رہا۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بہروز کمال وندی نے کہا کہ اگر رافائل گروسی اپنے طرزِ عمل میں بنیادی تبدیلی لاتے ہیں تو صورتحال مختلف ہوسکتی ہے، تاہم موجودہ طریقہ کار کے تحت ایران کو ان پر اعتماد نہیں۔

ایرانی عہدیدار نے رافائل گروسی پر پیشہ ورانہ اور تکنیکی انداز کے بجائے سیاسی طرز عمل اختیار کرنے کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی اے ای اے کی رپورٹس اور گروسی کے عوامی بیانات نے یورپی ممالک، امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر سیاسی دباؤ بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے۔

بہروز کمال وندی نے کہا کہ آئی اے ای اے کو اپنے بنیادی کردار کی طرف واپس آنا چاہیے اور اس کا کام سیاسی نہیں بلکہ پیشہ ورانہ اور تکنیکی نوعیت کا ہونا چاہیے۔

انہوں نے جنگ کے دوران نقصان پہنچنے والی ایرانی جوہری تنصیبات تک آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کی رسائی محدود کرنے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایران کو سیکیورٹی خدشات لاحق ہیں۔

ان کے مطابق ایران کے مخالفین ایسی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں جنہیں مزید حملوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، اس لیے جوہری تنصیبات سے متعلق معلومات کا تحفظ تہران کے لیے انتہائی اہم ہے۔

ایرانی جوہری حکام نے آئی اے ای اے کو فراہم کی جانے والی معلومات کی رازداری پر بھی سوالات اٹھائے۔ کمال وندی کا کہنا تھا کہ اگر فراہم کردہ معلومات کے مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں دی جاسکتی تو ایران سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ تمام معلومات ایجنسی کے حوالے کردے۔

ایران نے امریکا کے ساتھ جنگ کے دوران نقصان پہنچنے والی جوہری تنصیبات تک آئی اے ای اے کی رسائی محدود کر رکھی ہے، جبکہ رافائل گروسی مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ایجنسی کے معائنہ کاروں کو ان مقامات تک رسائی ملنی چاہیے تاکہ ایران کے جوہری مواد اور سرگرمیوں کی تصدیق کی جاسکے۔

دوسری جانب کمال وندی نے ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی کے آئی اے ای اے کی جنرل کانفرنس میں شرکت کے معاملے پر بھی بات کی۔ ان کے مطابق آسٹریا نے محمد اسلامی کو پہلے ہی متعدد بار داخلے کے لیے قابلِ استعمال شینگن ویزا جاری کردیا تھا، تاہم بعد میں ویانا کی جانب سے ان کے دورے کی حوصلہ شکنی کی گئی۔

ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ آسٹریا نے امریکا کے دباؤ کے تحت اپنا مؤقف تبدیل کیا۔ اس پیش رفت پر ایران نے تہران میں آسٹریا کے ناظم الامور کو طلب کرکے باضابطہ احتجاج بھی ریکارڈ کرایا ہے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version