کیا شہد کی مکھیاں واقعی گنتی جانتی ہیں؟ حالیہ تحقیق میں سائنسدانوں نے اس سوال کا نیا جواب دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مکھیاں صرف شکلیں نہیں پہچانتیں بلکہ تعداد بھی سمجھ سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق مکھیاں دنیا کو انسانوں سے مختلف انداز میں دیکھتی ہیں اور اسی زاویے سے تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ ان میں گنتی کی صلاحیت موجود ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ کافی عرصے سے یہ بحث جاری تھی کہ مکھیاں واقعی گنتی کرتی ہیں یا صرف مختلف نقش و نگار میں فرق پہچانتی ہیں۔
اس نئی تحقیق میں ماہرین نے پرانے تجربات کا دوبارہ جائزہ لیا لیکن اس بار انہوں نے تصاویر کو اس طرح دیکھا جیسے مکھیاں دیکھتی ہیں۔
اس سے پہلے کیے گئے تجربات میں مکھیوں کو مختلف کارڈز دکھائے جاتے تھے جن پر اشکال بنی ہوتی تھیں اور انہیں ان اشکال کی تعداد کے مطابق نشان منتخب کرنا ہوتا تھا۔
تربیت کے دوران مکھیوں کی کارکردگی کافی بہتر رہی جب کہ اصل آزمائش میں بھی ان کا نتیجہ اتفاقی اندازے سے بہتر ثابت ہوا جس سے گنتی کی صلاحیت کا اشارہ ملا۔
تاہم ناقدین کا کہنا تھا کہ مکھیاں صرف زیادہ پیچیدہ یا نمایاں تصاویر کو چن رہی ہیں، نہ کہ واقعی گنتی کر رہی ہیں۔
نئی تحقیق میں اس اعتراض کو مدنظر رکھتے ہوئے تصاویر کا تجزیہ مکھیوں کی بصری صلاحیت کے مطابق کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ زیادہ اشکال ہونے کا مطلب ہمیشہ زیادہ نمایاں ہونا نہیں ہوتا۔
یوں یہ خیال کمزور پڑگیا کہ مکھیاں صرف ظاہری فرق کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ مکھیاں واقعی اشکال کی تعداد کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، نہ کہ صرف دیکھنے کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہیں۔
تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جانوروں کی ذہانت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ دنیا کو ان کی نظر سے دیکھا جائے کیونکہ انسان اور جانور چیزوں کو مختلف انداز میں محسوس کرتے ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ شہد کی مکھیاں بار بار اپنی حیران کن صلاحیتوں سے سائنسدانوں کو چونکارہی ہیں اور یہ تحقیق بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
