پوری دنیا میں ڈپریشن حیرت انگیز حد تک ایک عام بیماری بن چکا ہے۔
ڈپریشن ایک موڈ سے متعلقہ بیماری ہے اور یہ روز مرہ کے کام مثلا کھانا، پینا، سونا، جاگنا اور معاشرتی رویوں کو شدید طور پر متاثر کرتا ہے۔
ڈیپریشن کئی اقسام کا ہو سکتا ہے، کسی بھی قسم کے ڈپریشن میں پیدا ہونے والی ناامیدی کی شدید لہر انسان کو تباہ کن حد تک متاثر کرتی ہے۔
زیادہ تر لوگ اپنے دل کی باتیں دل میں رکھتے ہیں اور دل ہی دل میں کڑھتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی سوچیں مزید الجھ کر ان کو ڈپریشن کا مریض بنا دیتی ہیں۔
لیکن کیا آپ ڈپریشن کی نئی علامت سے واقف ہیں؟ اگر نہیں تو آئیے ہم آپکو بتاتے ہیں۔
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ڈپریشن کے شکار افراد کا جسمانی درجہ حرارت دیگر افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

جی ہاں، تحقیق میں بتایا گیا کہ ڈپریشن علامات کی شدت میں اضافے کے ساتھ جسمانی درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
محققین نے کہا کہ اگر ڈپریشن کے مریضوں کے جسمانی درجہ حرارت میں کمی لائی جائے تو دماغی صحت کو بھی فائدہ ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ جسمانی درجہ حرارت اور ڈپریشن کے درمیان تعلق کے حوالے سے اب تک کی سب سے بڑی تحقیق ہے۔