سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ آنکھوں کے گرد بننے والے پیلے اور ابھرے ہوئے دھبے مستقبل میں دل کے دورے یا فالج کے بڑھتے ہوئے خطرے کی علامت ہوسکتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق آنکھوں کے گرد پیلے دھبوں کی اس کیفیت کو زینتھیلیزما کہا جاتا ہے جو اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب جسم کے مدافعتی خلیوں میں کولیسٹرول اور دیگر چکنائیاں جمع ہوجاتی ہیں۔
امریکا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے اس کیفیت اور دل و دماغ سے متعلق سنگین بیماریوں کے درمیان ممکنہ تعلق کا جائزہ لینے کے لیے ہزاروں افراد کے طبی اعداد و شمار کا تجزیہ کیا۔
تحقیق میں آنکھوں کے گرد پیلے دھبوں والے 17 ہزار 925 افراد کو شامل کیا گیا جب کہ اتنی ہی تعداد میں ایسے افراد کو بھی شامل کیا گیا جن کی آنکھوں کا معائنہ ہوا تھا لیکن ان میں یہ دھبے موجود نہیں تھے۔
نتائج کے مطابق ایک سال کے دوران پیلے دھبوں والے افراد میں تقریباً ایک فیصد کو دل کا دورہ پڑا جب کہ ان افراد میں یہ شرح 0.35 فیصد رہی جن میں یہ علامات موجود نہیں تھیں۔
اسی طرح پیلے دھبوں والے افراد میں فالج کی شرح 0.95 فیصد رہی جب کہ دوسرے گروپ میں یہ شرح 0.3 فیصد تھی۔ مختصر مدت کے لیے خون کی روانی متاثر ہونے اور عارضی فالج جیسی کیفیت کا خطرہ بھی پہلے گروپ میں زیادہ پایا گیا۔
محققین کے مطابق اگرچہ مجموعی طور پر یہ شرحیں کم ہیں تاہم آنکھوں کے گرد پیلے دھبوں والے افراد میں دل اور دماغ سے متعلق سنگین بیماریوں کا خطرہ کئی گنا زیادہ دیکھا گیا۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ دونوں گروپوں کے درمیان فرق کچھ کم ہوا تاہم پانچ اور دس سال بعد بھی پیلے دھبوں والے افراد میں دل اور دماغ کی بیماریوں کا خطرہ نمایاں طور پر زیادہ رہا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنکھوں کے گرد یہ دھبے عموماً خود نقصان دہ نہیں ہوتے اور لوگ اکثر انہیں خوبصورتی سے متعلق مسئلہ سمجھ کر ماہر جلد سے رجوع کرتے ہیں لیکن ان کی موجودگی جسم میں موجود دیگر خطرات کی نشاندہی کرسکتی ہے۔
محققین کے مطابق ایسے افراد میں خون میں چکنائی کی مقدار، بلند فشار خون اور دل کی صحت سے متعلق دیگر عوامل کا بروقت جائزہ لینا مفید ہوسکتا ہے۔
ماہرین نے زور دیا کہ صحت مند طرز زندگی، مناسب خوراک، ورزش، خون میں چکنائی اور فشار خون کو قابو میں رکھنے سے مستقبل میں دل کے دورے اور فالج کے خطرے کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
