اقوام متحدہ نے خبردار کردیا ہے کہ ایل نینو غیر معمولی طور پر طاقتور ہوتا جا رہا ہے اور دنیا انتہائی موسمی حالات کے خطرناک زون میں داخل ہوچکی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق قدرتی موسمی رجحان ایل نینو ہماری آنکھوں کے سامنے غیر معمولی طور پر طاقتور ہو رہا ہے، جبکہ دنیا کو شدید گرمی، خشک سالی، سیلاب اور دیگر خطرناک موسمی واقعات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
تازہ ترین موسمی اعداد و شمار کے مطابق موجودہ ایل نینو کے فروری 2027 تک جاری رہنے کے تقریباً 100 فیصد امکانات ہیں۔
ماہرین کے مطابق جتنا طاقتور ایل نینو ہوگا، اتنا ہی زیادہ امکان ہے کہ دنیا بھر میں بارشوں اور درجہ حرارت کے معمولات میں نمایاں تبدیلیاں آئیں گی اور شدید موسمی واقعات میں اضافہ ہوگا۔
امریکی موسمیاتی ادارے NOAA پہلے ہی خبردار کرچکا ہے کہ اس بات کا 69 فیصد امکان ہے کہ موجودہ ایل نینو گزشتہ 70 سال کا طاقتور ترین ایل نینو ثابت ہوسکتا ہے۔
رواں سال ایل نینو باضابطہ طور پر جون میں تشکیل پایا تھا۔ عالمی موسمیاتی تنظیم WMO کے مطابق یہ موسم خزاں اور موسم سرما کے دوران برقرار رہنے کا امکان ہے جبکہ اس کی شدت سال کے اختتام پر عروج پر پہنچ سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ سائنس میں اب کسی شک کی گنجائش نہیں رہی اور دنیا ایسے نامعلوم حالات میں داخل ہوچکی ہے جہاں سمندر مسلسل گرم ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سمندری سطح کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، عالمی درجہ حرارت مسلسل اوپر جا رہا ہے اور دنیا اب شدید موسمی حالات کے خطرناک زون میں پہنچ چکی ہے۔
گوتریس کے مطابق اب مقابلہ بڑھتے ہوئے موسمی خطرات اور انسانوں کے تحفظ کے لیے مؤثر موسمیاتی اقدامات کے درمیان ہے اور دنیا کو یہ مقابلہ ہر صورت جیتنا ہوگا۔
دوسری جانب عالمی موسمیاتی تنظیم کی سیکریٹری جنرل سیلسٹے ساؤلو نے کہا کہ دنیا پہلے ہی خشک سالی اور سیلاب سے ہونے والی تباہی دیکھ رہی ہے اور ایل نینو کی شدت بڑھنے کے ساتھ ان اثرات میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
شمالی امریکا میں ایل نینو عام طور پر جنوبی علاقوں میں زیادہ بارش، شمالی علاقوں میں نسبتاً معتدل درجہ حرارت اور بحر اوقیانوس میں نسبتاً پُرسکون سمندری طوفانوں کے موسم کا سبب بنتا ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکا میں ایل نینو کے نمایاں اثرات موسم خزاں کے دوران سامنے آنا شروع ہوں گے جبکہ موسم سرما میں یہ اثرات اپنی شدت کو پہنچ سکتے ہیں۔
