کہتے ہیں کہ جب کوئی بھی شخص کسی بڑے مقصد کے لیے رخت سفر باندھتا ہے تو پھر کوئی رکاوٹ یا دیوار اس کے راستے میں حائل نہیں ہوتی ایسا ہی کچھ معاملہ امریکا سے تعلق رکھنے والے شخص کے ساتھ بھی پیش آیا۔
پیٹرک کارنیل نامی امریکی موٹر سائیکل سوار نے محض ایک سال میں تقریباً 201,901 میل (3 لاکھ 25 ہزار کلومیٹر) کا سفر طے کر کے ایک ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جسے سن کر یقین کرنا مشکل ہے۔

پیٹرک کارنیل جنہیں لوگ کو بڑی تعداد وروم اولڈ مین کے نام سے بھی جانتے ہیں کے اتنے طویل سفر کا مقصد صرف ریکارڈ بنانا نہیں تھا، بلکہ ایک نیک مقصد کے لیے رقم جمع کرنا بھی تھا۔
یہ بھی پڑھیں: چینی روبوٹ نے دنیا کے تیز ترین انسان کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا
خیال رہے کہ پیٹرک کارنیل کی اہلیہ کے خاندان کے کئی افراد ایک نایاب جینیاتی بیماری مایوٹونک ڈسٹروفی میں مبتلا ہیں یہ بیماری جسم کے پٹھوں سمیت دوسرے حصوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔ اسی لیے پیٹرک نے اس بیماری کے بارے میں آگاہی پھیلانے اور مریضوں کی مدد کے لیے چندہ جمع کرنے کا فیصلہ کیا۔
اسی مقصد کے لیے انہوں نے اپنی موٹر سائیکل پر سفر کا آغاز کیا اور حیرت انگیز طور پر دوران سفر 4 عالمی ریکارڈ بھی اپنے نام کر لیے۔
کارنیل نے جو چار ریکارڈ قائم کیے ان میں پہلا مسلسل کئی دن روزانہ کم از کم 1,000 میل موٹر سائیکل چلانے کا تھا دوسرا ریکارڈ طویل عرصے تک روزانہ اوسطاً 1,000 میل یا اس سے زیادہ سفر کرنا، تیسرا 12 ماہ میں موٹر سائیکل پر سب سے زیادہ فاصلہ طے کرنے کا جبکہ چوتھا ایک ہی ملک میں موٹر سائیکل پر سب سے زیادہ فاصلہ طے کرنے کا تھا۔
شروع میں ان کا منصوبہ 125 دن میں 125,000 میل سفر کرنے کا تھا، لیکن چندہ توقع کے مطابق جمع نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے سفر جاری رکھا۔ آخرکار انہوں نے صرف 146 دن میں 146,000 میل کا سفر کر لیا۔
کارنیل اب تک تقریباً 1 لاکھ 50 ہزار ڈالر جمع کر چکے ہیں۔