Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

صرف 4 ہفتے بہتر غذا کا استعمال عمر رسیدگی کے اثرات کم کرسکتا ہے، تحقیق

حیاتیاتی عمر وہ ہوتی جو یہ بتائے کہ ہمارا جسم اپنی تاریخی عمر سے کتنا بڑا یا عمر رسیدہ ہو گیا ہے

بہتر صحت اور عمررسیدگی کی رفتار کو سست کرنے کے لیے متوازن غذا کی اہمیت سے انکار نہیں، یہاں تک کہ صرف 4 ہفتوں تک اچھی خوراک کا استعمال حیاتیاتی عمر میں کمی میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

اسٹریلیا میں کی جانے والی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 65 سے 75 سال کی عمر کے کچھ افراد نے صرف چار ہفتے تک مختلف اور نسبتاً صحت مند غذا کھائی تو ان کے جسم میں عمر سے متعلق کچھ اہم اشاروں بہتری دیکھی گئی۔

آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف سڈنی کے محققین نے اس مقصد کے لیے 104 شرکاء کو شامل کیا جن کی عمریں 65 سے 75 سال کے درمیان تھیں۔

ان تمام شرکاء کو 4 گروپس میں تقسیم کر کے مختلف غذائیں کھانے کو دی گئی، ایک گروپ کو ایسی خوراک دی گئی جس میں جانوروں اور پودوں دونوں سے حاصل ہونے والی غذائیں شامل تھیں، جبکہ دوسرے کو زیادہ تر پودوں سے حاصل ہونے والا پروٹین دیا گیا۔

اس کے علاوہ تیسرے گروپ کو زیادہ چکنائی اور کم کاربوہائیڈریٹس والی خوراک جبکہ چوتھے گروپ کو کم چکنائی اور زیادہ کاربوہائیڈریٹس والی خوراک دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: یہ سادہ سا ٹیسٹ آپ کی درست حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگا سکتا ہے

زیادہ چکنائی والی خوراک لینے والے اس گروپ میں جس کی خوراک عام خوراک سے ملتی جلتی تھی، حیاتیاتی عمر کے اندازے میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی جبکہ دوسرے تین گروپوں میں حیاتیاتی عمر کے اندازے میں کمی دیکھی گئی۔

سب سے زیادہ تبدیلی اس گروپ میں ہوئی جس نے کم چکنائی اور زیادہ کاربوہائیڈریٹس والی خوراک کھائی، جس میں پودوں اور جانوروں دونوں سے حاصل ہونے والی غذائیں شامل تھیں۔

مختلف حساب کے مطابق اس گروپ کے افراد کی حیاتیاتی عمر کا اندازہ دوسرے گروپ کے مقابلے میں تقریباً 3.5 سے 4.1 سال کم تھا۔

حیاتیاتی عمر کیا ہوتی ہے؟

ہماری عام عمر اس بات سے معلوم ہوتی ہے کہ ہماری پیدائش کو کتنے سال گزر چکے ہیں اسے تاریخی عمر کہتے ہیں تاہم اس کے برعکس حیاتیاتی عمر وہ ہوتی جو یہ بتائے کہ ہمارا جسم اپنی تاریخی عمر سے کتنا بڑا یا عمر رسیدہ ہو گیا ہے یا کس حالت میں ہے اس کے لیے بلڈ پریشر، خون میں شوگر، کولیسٹرول، انسولین، سوزش، کمر کا سائز اور وزن وغیرہ جیسے عوامل دیکھے جاتے ہیں۔

کیا لوگ واقعی چار سال جوان ہو گئے؟ تو اس کا سادہ جواب نہیں میں ہے۔

یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ اس تحقیق سے ثابت نہیں ہوتا کہ لوگوں کی اصل عمر چار سال کم ہو گئی یا ان کے بڑھاپے کا عمل چار سال پیچھے چلا گیا۔

محققین کے مطابق زیادہ درست بات یہ ہے کہ ان افراد کے جسم میں کچھ ایسے صحت کے اشارے پیدا ہوئے جو نسبتاً کم عمر افراد میں دیکھے جاتے ہیں۔یعنی ان کے خون، میٹابولزم اور دیگر جسمانی پیمائشوں میں مثبت تبدیلیاں دیکھی گئیں۔

تحقیق میں زیادہ کاربوہائیڈریٹس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ لوگوں نے کیک، مٹھائیاں، سافٹ ڈرنکس یا سفید ڈبل روٹی زیادہ کھائی کاربوہائیڈریٹس زیادہ تر مکمل اور کم پراسیس شدہ غذاؤں سے حاصل کیے گئے تھے۔

محققین نے واضح کیا کہ اس تحقیق کے نتائج کو زیادہ چینی اور غیر صحت مند کاربوہائیڈریٹس والی خوراک پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔

جن لوگوں میں بہتر نتائج دیکھے گئے، انہوں نے اپنی عام خوراک کے مقابلے میں زیادہ فائبر، کم چکنائی اور کم جانوروں سے حاصل ہونے والا پروٹین استعمال کیا۔

ایک اہم امکان یہ ہے کہ خوراک کی تبدیلی سے خون میں شوگر، کولیسٹرول، انسولین، بلڈ پریشر اور جسم میں سوزش جیسے عوامل بہتر ہوئے۔ چونکہ یہی عوامل حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگانے میں استعمال ہوتے ہیں، اس لیے حیاتیاتی عمر کا نمبر بھی کم ہو گیا۔

Exit mobile version