ملازمت پیشہ افراد عموماً پورا ہفتہ وقت مقررہ پر ہی کھانا کھاتے ہیں تاہم لوگوں کی بڑی تعداد چھٹی والے دن اکثر کھانے کھانے کے وقت میں تبدیلی کر لیتی یہی معمولی سی غلطی امراض قلب کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔
حال ہی میں کی جانے والی ایک انتہائی منفرد تحقیق میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ ہفتے کے دنوں اور ہفتے کے آخر میں کھانے کے اوقات بدلنے سے دل کی صحت پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔
اس تحقیق میں ایک لاکھ سے زائد افراد جن میں مرد اور خواتین دونوں ہی شامل تھے کے کھانے کے اوقات کار کا تجزیہ کیا گیا تاہم نتائج حیران کن تھے۔
یہ بھی پڑھیں: صحت بہتر ہونے کی چند حیران کن علامات، جنہیں کم لوگ ہی جانتے ہیں
تحقیق کے نتائج میں خاص طور پر مرد حضرات کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی کہ ایسے تمام افراد جو ہفتے کے دنوں میں تو ایک ہی وقت پر کھاتے تھے، لیکن ہفتے کے آخر میں کھانے کا وقت کافی بدل دیتے تھے، تو ان میں دل کی بیماری کا خطرہ زیادہ دیکھا گیا۔

تحقیق کے مطابق مرد حضرات میں کھانے کے معمول میں ہر ایک گھنٹے کے اضافی فرق کے ساتھ دل اور خون کی شریانوں کی بیماری کی شرح تقریباً 14 فیصد زیادہ دیکھی گئی جبکہ دل کی شریانوں کی بیماری، جس میں ہارٹ اٹیک بھی شامل ہے کی شرح تقریباً 21 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
محققین کے مطابق یہ نتائج صرف کھانے کی مقدار یا معیار پر منحصر نہیں تھے بلکہ نیند کے وقت اور نیند کے دورانیے جیسے عوامل کو بھی اس میں شامل کیا گیا تھا تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ خواتین میں اس تحقیق کے دوران ایسا کو واضح تعلق سامنے نہیں آیا۔
اس کی وجہ کیا ہے؟
ہمارے جسم میں ایک قدرتی حیاتیاتی گھڑی ہوتی ہے جو نیند، کھانے، ہارمونز اور جسم کے دوسرے کاموں کو منظم کرتی ہے جب آپ ہفتے کے دنوں میں ایک ہی وقت پر کھانا کھاتے ہیں اور ہفتے کے آخر میں اچانک بہت مختلف اوقات میں کھانا شروع کر دیتے ہیں تو ممکن ہے کہ یہ عمل جسم کی قدرتی گھڑی کو متاثر کرتا ہو۔
اس تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ کھانے کے اوقات بدلنے سے براہِ راست امراض قلب جنم لیتا ہو۔ اس تحقیق میں صرف دونوں چیزوں کے درمیان ایک تعلق دیکھا گیا ہے۔ تاہم ابھی اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ واقعی کھانے کے اوقات میں تبدیلی اس خطرے کی وجہ بنتی ہے یا کوئی اور وجہ بھی شامل ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ ہفتے کے دن ہوں یا چھٹی کے دن، کوشش کریں کہ کھانے کے اوقات میں بہت زیادہ فرق نہ آئے۔
مثلاً اگر آپ عام دنوں میں صبح 8 بجے ناشتہ کرتے ہیں تو ہفتے کے آخر میں اسے اچانک دوپہر تک مؤخر کرنے کے بجائے تقریباً معمول کے قریب رکھنا بہتر ہو سکتا ہے۔