جگر انسانی جسم کا اہم ترین عضو ہے جو نہ صرف فلٹرکا اہم کام انجام دیتا ہے بلکہ جسم کی مجموعی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے بھی 500 سے زیادہ افعال انجام دیتا ہے۔ یہ آپ کے مدافعتی نظام، میٹابولزم، نظام ہاضمہ اورجسم کے فاسد مادوں کے اخراج میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق روزمرہ کی کچھ عادتیں جگر کو نقصان پہنچا سکتی ہیں جبکہ چند آسان تبدیلیاں اپنا کر اسے مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق 2024 میں دنیا بھر میں تقریباً 24 کروڑ افراد ہیپاٹائٹس بی جبکہ 4 کروڑ 70 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس سی کا شکار تھے۔
جگر کو نقصان پہنچانے والی 3 عادتیں
فاسٹ فوڈز کا زائد استعمال
فی زمانہ فاسٹ فوڈز کا استعمال کافی بڑھ گیا ہے جسے لوگوں کی بڑی تعداد بہت شوق سے کھاتی ہے تاہم ایک نئی تحقیق میں اس کے مضر صحت اثرات سامنے آئیں ہیں جو فیٹی لیور سے منسلک ہیں۔
تحقیق کے مطابق روزانہ کل کیلوریز کا کم از کم 20 فیصد اگر فاسٹ فوڈ غذاؤں سے حاصل کیا جائے تو اس طرح یہ غیر الکوحل فیٹی لیورکی بیماری کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹماٹر، جگر کی صحت کا خاموش معاون
زیادہ میٹھی چیزیں کھانا
چینی اور میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال جگر میں چربی بڑھا سکتا ہے۔ اس سے انسولین کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور فیٹی لیور کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین خواتین کو روزانہ 25 گرام اور مردوں کو 36 گرام سے زیادہ اضافی چینی استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
ڈیٹاکس مصنوعات اور سپلیمنٹس کا استعمال
بہت سے لوگ جگر کی صفائی کے نام پر مختلف مصنوعات، جڑی بوٹیوں اور سپلیمنٹس کا استعمال کرتے ہیں تاہم ماہرین کے مطابق ان کے فوائد ثابت کرنے والے سائنسی شواہد محدود ہیں۔
جگر خود جسم میں نقصان دہ مادوں کو صاف کرنے کا کام کرتا ہے اس لیے اس کی صفائی کے نام پر غیر ضروری مصنوعات استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
جگر کو محفوظ رکھنے والی 3 عادتیں
ورزش کریں اور وزن کنٹرول رکھیں
ماہرین کے مطابق وزن کم کرنے سے جگر میں چربی اور سوزش کم کرنے میں مدد ملتی ہے ہفتے میں کم از کم 150 منٹ ورزش اور دو دن وزن اٹھانے والی ورزش کرنے سے جگر کی صحت بہتر رہ سکتی ہے۔
صحت بخش غذا استعمال کریں
پھل، سبزیاں، دالیں، مچھلی اور صحت بخش چکنائی جگر کی صحت کے لیے مفید ہیں ماہرین سرخ گوشت، زیادہ چکنائی والی غذاؤں اور تلی ہوئی چیزوں کا استعمال کم کرنے جبکہ مچھلی اور سفید گوشت کو ترجیح دینے کا مشورہ دیتے ہیں۔
باقاعدگی سے طبی معائنہ کروائیں
ہیپاٹائٹس بی اور سی جگر کی بیماریوں کی بڑی وجوہات ہیں۔ اس لیے ماہرین بالغ افراد کو کم از کم ایک بار ان دونوں بیماریوں کے ٹیسٹ کروانے کا مشورہ دیتے ہیں۔
اس کے علاوہ ہیپاٹائٹس بی سے بچاؤ کی ویکسین بھی اہم ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جنہیں بچپن میں یہ ویکسین نہیں لگی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جگر کو صحت مند رکھنے کے لیے متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، مناسب وزن اور وقت پر طبی معائنہ بہت اہم ہیں۔




















