Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ہجرت کرکے قائداعظم کے پاکستان میں آئے تھے اور ہمیں دھکیل کر بھٹو کے پاکستان میں پہنچادیا، خالد مقبول

دھرتی ماں صرف پاکستان ہے اور تمام صوبے ملک کا حصہ ہیں، چیئرمین ایم کیو ایم

کراچی: چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کراچی کے مقامی ہوٹل میں گریجویٹ فورم پاکستان کے زیر اہتمام قومی مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اجداد ہجرت کرکے قائداعظم کے پاکستان میں آئے تھے لیکن ہمیں دھکیل کر بھٹو کے پاکستان میں پہنچادیا گیا۔

اپنے خطاب میں چیئرمین ایم کیو ایم نے کہا کہ صوبے کا مطالبہ ایم کیو ایم کے قیام سے پہلے سے موجود ہے جب کہ ان کی جماعت انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کی حامی ہے اور اے پی ایم ایس او کے قیام کے وقت بھی صوبے کا مطالبہ موجود تھا۔

انہوں نے کہا کہ دھرتی ماں صرف پاکستان ہے اور تمام صوبے ملک کا حصہ ہیں، صوبے صرف انتظامی اکائیاں ہیں، اس سے زیادہ ان کی کوئی حیثیت نہیں۔

خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ موجودہ صوبے لسانی بنیادوں پر قائم ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ صوبے انتظامی بنیادوں پر ہونے چاہیے۔ پورے ملک میں جہاں جہاں صوبوں کا مطالبہ ہے، ان میں سب سے دیرینہ اور مضبوط مطالبہ شہری سندھ کا ہے، جتنا استحصال اور زیادتی شہری سندھ کے ساتھ ہوئی اتنی کسی کے ساتھ نہیں ہوئی۔

چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان کہتے ہیں کہ سندھ میں دو طبقے ہیں، ایک وہ جو کماکر خزانہ بھرتے ہیں اور دوسرا وہ جو اسے خرچ کرتا ہے۔ جو ناقابل تقسیم ہے وہ ہمارا وطن پاکستان ہے، صوبوں کو کبھی بھی تقسیم کیا جاسکتا ہے اور اب تک تقسیم ہوجانا چاہیے تھا۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ سندھ میں نئے صوبوں کی قرارداد نہیں لائی جاسکتی، سندھ میں پیپلزپارٹی کے ہوتے ہوئے تو کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔ اگر سندھ میں ایمانداری کے ساتھ مردم شماری کروا لی جائے تو نئے صوبوں کا مطالبہ پیپلزپارٹی خود کر رہی ہوگی۔

خالد مقبول صدیقی کے مطابق گزشتہ مردم شماری میں کراچی کی آبادی ایک کروڑ 40 لاکھ کردی گئی تھی جب کہ ایم کیو ایم کی جدوجہد سے آبادی دو کروڑ سے زیادہ گنی گئی۔ آج بہت لمبی دلیل کی ضرورت نہیں کہ نئے صوبے کیوں ضروری ہیں، ملک کی آبادی 26 کروڑ ہوچکی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارے اجداد ہجرت کرکے قائداعظم کے پاکستان میں آئے تھے لیکن ہمیں دھکیل کر بھٹو کے پاکستان میں پہنچادیا گیا۔ سندھ کے شہری علاقوں کا صوبہ ہوگا، سندھ کو تو پہلے ہی تقسیم کردیا گیا ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا گزشتہ 60 سال ہماری بربادی کی داستان سنانے کے لیے کافی نہیں؟ سندھ مصنوعی اکثریت ہے جب کہ سندھ کے شہری علاقے صوبے کی 65 فیصد آبادی پر مشتمل ہیں۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ صدر پاکستان نے کراچی کی آبادی ساڑھے تین کروڑ بتائی لیکن مردم شماری میں اس پوری آبادی کو نظر انداز کردیا گیا۔ جو ریاست مردم شماری نہ کروا سکے کیا وہ مردم شناسی کرواسکتی ہے؟

چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان نے مزید کہا کہ ہم تمام صوبوں میں جائیں گے اور یہ مکالمہ کریں گے، ہمیں پیپلزپارٹی سے تو بات کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ 2018 میں ہمیں 7 نشستوں تک محدود کیا گیا مگر اس وقت ہم آج سے زیادہ مضبوط تھے۔ یہ ہمارے باپ کا پاکستان ہے، ہم نے بنایا اور ہم ہی اس کا فیصلہ کریں گے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version